منڈگوڈ:28؍نومبر (ایس او نیوز)حالیہ دنوں میں نابالغ لڑکیوں اور عورتوں پر عصمت دری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہونے سے معاشرہ حیرت زدہ ہے۔ اترکنڑا ضلع میں سب سے زیادہ جنسی ہراسانی اور عصمت دری کے واقعات منڈگوڈ تعلقہ میں درج ہوئے ہیں۔
تعلقہ میں 2013میں نابالغ لڑکیوں کی جنسی ہراسانی کے 5واقعات ۔ 2014میں 2عصمت دری اور 8نابالغہ جنسی ہراسانی کے کیس ۔2015میں 1عصمت لوٹنے اور 4ہراسانی ۔2016میں 2عصمت دری اور 4جنسی ہراسانی ۔ 2017میں 3عصمت دری اور 2018میں 3عصمت دری کے واقعات در ج ہوئے ہیں۔ ضلع کے دیگر تعلقہ جات سے موازنہ کریں تو منڈگوڈ تعلقہ میں سب سے زیادہ عصمت دری اور جنسی ہراسانی کے واقعات درج ہوئے ہیں خاص کر نابالغ لڑکیوں کی جنسی ہراسانی اور عزت لوٹنے کے معاملات میں اضافہ تشویش ناک ہے۔ اس سلسلے میں والدین سے کہاگیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائیل سے دور رکھیں اور کسی ضرورت کے مطابق انہیں دیا جارہاہے تو اس کی کڑی نگرانی کریں۔ کلی طورپر موبائیل کے غلط استعمال سے کئی گھرانوں کی ناک کٹتی جارہی ہے۔
ایک جائزے کے مطابق تعلقہ کے دیہی علاقوں میں عصمت دری کے واقعات زیادہ ہورہے ہیں۔ جس کی ایک اہم وجہ تعلقہ میں ناخواندگی کو بھی قرار دیاجارہاہے۔ اور معزز شہریوں نے موبائیل کے غلط استعمال سے جذبات برانگیختہ ہونےسے بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں غلط راہ اپناتے ہوئے بے عزتی کا باعث بننےپربھی اشارے کئے ہیں۔ اسی طرح ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپنی ذاتی دشمنی کے لئے نفرت کی آگ میں سلگتے ہوئے عصمت دری یا جنسی ہراسانی کے جھوٹے کیس درج کئے جانے کی ذرائع نے خبر دی ہے۔